22 جنوری 2026 - 05:19
ایسے پیغمبرجنہوں نے اپنی امت کی سعادت کے لئے بہت زیادہ صعوبتیں جھیل لیں

خداوند متعال سورہ شعراء میں پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کو درپیش مسائل بیان فرماتا ہے اور یہ کہ ان مسائل نے آپؐ کو مفلوج نہیں کیا اور آپؐ نے نسل انسانی کو سعادت اور خوشبختی کی طرف راہنمائی عطا کی۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اللہ تعالیٰ نے سورہ مبارکۂ شعراء میں ـ قوم شعیبؑ کی سرگذشب اور ان کے ناپاک کاروبار اور  ڈنڈی مار کر ناپ و تول میں کمی کرنے کی بنا پر ان پر نازل ہونے والے عذاب کے بیان کے بعد ـ فرمایا ہے کہ خدا نے کسی بھی قم پر عذاب نازل نہیں کیا مگر یہ کہ ان کے لئے [پہلے] پیغمبر بھیجا جس نے انہیں ان بدصورت کاموں کی یاددہانی کرائی اور انہیں }خبردار کیا کہ ظلم سے باز آئیں، اور اگر ہم پیغمبروں کو مبعوث کئے بغیر ایسا کرتے تو یہ ظلم ہوتا جبکہ خدا ظالم نہیں ہے۔

بعدازاں خدائے متعال نے راہ رسالت میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کو درپیش مسائل و مشکلات کو بیان کرتا ہے اور ان تہمتوں کو جو آپؐ کو دوران رسالت سننا پڑیں؛ یعنی وہ صعوبتیں جو پؐ نے برداشت کر لیں، اور یوں آپؐ  نے انسانی تاریخ کا رخ بدل دیا اور تمام ادوار اور زمانوں میں اللہ کے بندوں کی ہدایت اور خوشبختی کا راستہ کھول دیا۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) پر تہمتوں کی یلغار

آپؐ کے مخالفین نے قرآن کا انکار کیا اور کہا کہ یہ اللہ کی کتاب نہیں ہے اور محمدؐ شیاطین اور جنات سے رابطے میں ہیں اور انہی نے یہ آیات انہیں یاد دلائی ہیں۔ خدائے متعال نے ارشاد فرمایا ہے کہ شیاطین اور جنات وحی نازل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے بلکہ وہ وحی کی ندا سننے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔

خدائے یکتا کے سوا کسی کو معبود مت سمجھنا

خداوند متعال اسی تسلسل میں پیغمبرؐ اور مؤمنین کی روش کو بیان کرتا ہے اور کچھ احکامات جاری کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ "فَلَا تَدْعُ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آَخَرَ فَتَكُونَ مِنَ الْمُعَذَّبِينَ؛ تو اللہ کے ساتھ کسی کو خدا کے نام سے نہ پکارو، نہیں تو عذاب کا نشانہ بننے والوں میں سے ہو گے۔" [1]

مسلمِ اول امیرالمؤمنین علی بن ابیطالب (علیہما السلام)

"وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ؛ [2]

اور اپنے قریبی خاندان والوں کو [عذاب سے] ڈرا دیحئے۔"

یہ دعوت ذوالعشیرہ کا آغاز ہے جب اللہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کو حکم دیا کہ اپنوں کی راہنمائی کریں، انہیں عذاب سے ڈرائیں اور اللہ کی مخالفت سے باز رکھیں۔ یہ آیت [جسے آیت انذار بھی کہا جاتا ہے] رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کو اعلانیہ دعوت کے آغاز کا حکم دیتی ہے اور اسے اپنے خاندان سے شروع کرنے کی ہدایت۔ یہ دعوت تین دن تک دہرائی گئی اور صرف مؤمن اول نے پہلے، دوسرے اور تیسرے دن دعوت قبول کی، ـ گوکہ غار حرا میں فرشتۂ وحی کے دکھائی دینے اور پہلی وحی کے نزول کے دن ہی ـ غار حرا ميں موجود تھے اور رسول اکرم (صلی  اللہ علیہ و آلہ) پر ایمان لائے تھے اور اس زمانے سے ام المؤمنین سیدہ خدیجہ (سلام اللہ علیہا) کے ہمراہ نماز ادا کرتے رہے تھے ـ چنانچہ یہاں، اعلانیہ دعوت کے اغاز پر بھی آپؑ مؤمن اول قرار پائے۔

خدائے مقتدر و مہربان پر توکل کرکے آگے بڑھو

بعدازاں ارشاد فرماتا ہے:

"وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ *  فَإِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ إِنِّي بَرِيءٌ مِمَّا تَعْمَلُونَ * وَتَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ؛ [3]

اور اپنا بازو جھکایئے مؤمنین میں سے اس کے لئے جو آپ کی پیروی کرے * تو اگر وہ آپ کا کہنا نہ مانیں تو کہہ دیجئے کہ میں بے تعلق ہوں اس سے جو تم کرتے ہو * اور بھروسہ کیجئے اس پر بہت عزيز و زبردست، بڑا مہربان بھی ہے۔"

یعنی یہ کہ جو لوگ آپ کی دعوت قبول کریں، ان کا خیر مقدم کیجئے، لیکن اگر قبول نہ کریں، تو فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ ان کے مقابلے میں اپنا موقف آشکار کیجئے اور ان کے اعمال سے بیزاری کا اعلان کیجئے۔ ان کی طرف کے نقصان سے خوفزدہ مت ہو جایئے اور اور اپنی رسالت کا کام جاری رکھئے۔

اللہ رسول اللہؐ پر نظر رکھے ہوئے ہیں

سورہ شعراء کی اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ کی تین اہم صفات و خصوصیات بیان ہوئی ہیں: وہ خدائے متعال جو اپنے پیغمبرؐ کی محنتوں اور اعمال ـ جیسے نماز اور جہاد ـ کو دیکھتا ہے، وہی اللہ جو ایک پیغمبرؐ کی رسالت کی نگرانی کرتا ہے۔ وہی اللہ جو پیغمبرؐ اور مؤمنوں کے رازو نیاز اور زبانی اور قلبی اذکار و اوراد کو سنتا ہے؛ ارشاد ہوتا ہے:

"الَّذِي يَرَاكَ حِينَ تَقُومُ * وَتَقَلُّبَكَ فِي السَّاجِدِينَ * إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ؛ [4]

جو دیکھتا ہے آپ کو جب آپ کھڑے ہوتے ہیں * اور آپ کی گردش کو سجدہ کرنے والوں میں * یقینا وہ سننے والا ہے بڑا جاننے والا۔"

ایک بڑی تہمت کا جواب

بعد کی آیات میں خدائے متعال خدائے متعال قرآن کریم کی نسبت دشمنوں کی تہمتوں کا جواب دیتا جنہوں نے کہا کہ یہ کلام وحی نہيں بلکہ شیطان کی تلقین و القاء ہے۔ چنانچہ خدائے متعال ارشاد فرماتا ہے کہ شیاطین تم ہی جیسے جھوٹے اور گنہگار لوگوں پر نازل ہوتا ہے؛ شیاطین جو کچھ سنتے ہیں، اسے بہت سارے جھوٹی باتوں کے ساتھ ملا کر اپنے دوستوں کو تلقین کر دیتے ہیں، اور اکثر ان میں سے، جھوٹے ہیں؛ ارشاد ہوتا ہے:

"هَلْ أُنَبِّئُكُمْ عَلَى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّيَاطِينُ * تَنَزَّلُ عَلَى كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ * يُلْقُونَ السَّمْعَ وَأَكْثَرُهُمْ كَاذِبُونَ * تَنَزَّلُ عَلَى كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ؛ [5]

کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیطان کس پر اترتے ہیں؟ وہ اترتے ہیں ہر جھوٹے، بہت تہمت لگانے والے بڑے گنہگار پر *  وہ غور سے سنتے ہیں اور ان میں کے زیادہ تر جھوٹے ہوتے ہیں۔"

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) پر ایک تہمت اور: خیالی شاعر

دشمن آپ پر دوسری باطل تہمتیں بھی لگاتے تھے اور کہتے تھے کہ آپؐ اوہام اور خیالات کے پیرو شاعر ہیں اور بعض آیات کے مطابق، وہ کہتے تھے کہ محمدؐ [العیاذ باللہ] مجنون ہیں، اور ان تہمتوں کا اللہ نے قرآن کریم کی متعدد آیات میں جواب دیا ہے اور یہاں بھی جواب دیتا ہے کہ شعراء اٹکلوں اور خیالات کی وادیوں میں بھٹکتے پھرتے ہیں اور گمراہ لوگ ان کی پیروی کرتے ہیں اور وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ کرتے نہیں ہیں، سوا ان [شعراء] جو ایمان لانے والے ہیں؛ ارشاد ربانی ہے:

"وَالشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ * أَلَمْ تَرَ أَنَّهُمْ فِي كُلِّ وَادٍ يَهِيمُونَ * وَأَنَّهُمْ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ؛ [6]

 اور [کافر] شعراء، [تو] ان کی پیروی کرتے ہیں گمراہ لوگ * کیا تم نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں * اور وہ کہتے ہیں ایسی باتیں جو کرتے نہیں۔"

حکیم شعراء اور کافر شعراء میں فرق ہے

بے شک خیالات و وہمیات پر مبنی یا گمراہ کرنے اور گناہ کی طرف دھکیلنے والے شعراء، یا اچھوں اور اچھائیوں کی ہجو کرنے والے شعراء اور لہو و لعب کہنے والے شعراء یا حتی لوگوں کو بہکانے والے اور ان کے عقائد کو نشانہ بنانے والے شعراء یقینا وہی ہیں جو اپنے گمراہانہ خیالات کی پیروی کرتے ہیں اور یقینا گمراہ لوگ ہی ایسے شعراء کی پیروی کرتے؛ لیکن تاریخ اسلام میں ایسے شعراء کی بھی کمی نہیں ہے جن کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) اور ائمۂ طاہرین (علیہم السلام) کی تائید حاصل رہی ہے اور وہ بزرگوار ان کا کلام سنتے رہے ہیں۔ چنانچہ ان آیات کے ضمن میں جن شعراء کی مذمت ہوئی ہے وہ کافروں میں سے تھے اور ان میں ایمان لانے والے اور عمل صالح انجام دینے والے شعراء شامل نہیں ہیں۔ جیسا کہ سورہ شعراء کی آخری آیت میں ارشاد ہوتا ہے:

"إِلَّا الَّذِينَ آَمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَذَكَرُوا اللَّهَ كَثِيرًا وَانْتَصَرُوا مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوا وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ؛ [7]

سوا ان لوگوں کے جو ایمان لائے، نیک کام کئے اور وہ اللہ کو بہت یاد کرتے ہیں، اور جب ان پر ظلم ہؤا تو انہوں نے بدلہ لیا اور جن لوگوں نے ظلم و ستم ڈھایا ہے وہ بہت جلد جان لیں گے کہ کس کہ پلٹ کر کس انجام کی طرف جاتے ہیں۔"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: مہدی احمدی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110


[1]۔ سورہ شعراء، آیت 213۔

[2]۔ سورہ شعراء، آیت 214۔

[3]۔ سورہ شعراء، آیات 215 تا 217۔

[4]۔ سورہ شعراء، آیات 218-220۔

[5]۔ سورہ شعراء، آیات 221-223۔

[6]۔ سورہ شعراء، آیات 224 – 226۔

[7]۔ سورہ شعراء، آیت227۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha